لڑی دار[1]

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - ایک دوسرے سے وابستہ یا منسلک، مسلسل، سلسلہ وار۔ "جب ان اعشاری اعداد کو لڑی دار اشاری اعداد میں تبدیل کر لیا جائے تو پھر بلاواسطہ مقابلہ بھی کیا جاسکتا ہے۔"      ( ١٩٦٨ء، اطلاقی شماریات، ٢٥ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'لڑی' کے بعد فارسی مصدر 'داشتن' سے صیغۂ امر 'دار' بطور لاحقۂ فاعلی لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔

مثالیں

١ - ایک دوسرے سے وابستہ یا منسلک، مسلسل، سلسلہ وار۔ "جب ان اعشاری اعداد کو لڑی دار اشاری اعداد میں تبدیل کر لیا جائے تو پھر بلاواسطہ مقابلہ بھی کیا جاسکتا ہے۔"      ( ١٩٦٨ء، اطلاقی شماریات، ٢٥ )